in

توہین عدالت ۔۔۔

ایک دفعہ ایک آدمی بیوی کو مارپیٹ کے الزام میں عدالت میں جج کے سامنے پیش ہو ا۔ جج نے پورا واقعہ توجہ سے سنا اور اس اچھے کردار کی نصیحت کر کے چھوڑ دیا ۔ دو دن گزرنے کے بعد وہ پھر سے عدالت میں آگیا اس نے اپنی بیوی کو پھر سے مارا ۔ جج نے غصے سے کہا کہ تم نے تم ن عدالت کو مذاق سمجھ رکھا ہے ۔
اس نے عرض کی کہ جج صاحب آپ میری بات سن لیں اس کے بعد جو مرضی سزا دے دیں ،
اس نے بتایا کہ جج صاحب اس دن میں نے آپ کے فیصلے بعد بہت آرام سے سانس لیا ۔ اور تھوری سی شراب پی لی ، لیکن مجھے اس کا مزہ نہیں آیا ۔ میں پوری بوتل پی لی ۔

 

اور پھر میں گھر چلا گیا ۔ گھر جا رکر مجھے بیوی نے گالیا ں دینا شروع کر دی کہ پی آئے ہو ۔گندھی نالی کا پانی پی کر ۔ میں پھر بھی خاموش رہا ۔ اس نے مجھے ویلا نکما پتا نہیں کیا کیا کہہ دیا میں تب بھی خاموش رہا ۔ لیکن جب اس نے کہا کہ وہ جج بھی پاگل تھا جس نے تجھے چھوڑ دیا ۔ نہیں تو تم جیل میں ہوتے ۔ تو جج صاحب مجھ سے عدالت کی توہین برداشت نہیں ہو ئی ۔اور پھر۔۔۔۔۔ ساتھ ہی جج نے آرڈر کر کے کیس خارج کر دیا ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رب کے غصے کو کیا چیز ٹھنڈا کرتی ہے ۔۔۔

ایک پیر جی تھے وہ ہر ہفتہ اپنے مرید کے پاس دعوت کھانے جاتے تھے۔