in

جب اللہ پاک نے انسان کی تخلیق کا ارادہ کیا تو حضرت جبریل کو زمین پر جانے حکم کیوں دیا ؟ ایمان افروز تحریر

جب اللہ پاک نے انسان کی تخلیق کا ارادہ کیا تو حضرت جبریل کو زمین پر جانے حکم کیوں دیا ؟ ایمان افروز تحریر

حضرت آدم علیہ السلام کا پتلا تخلیق کیا جانا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے جبرائیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ زمین پر جاؤ اور مٹھی بھر مٹی لے آؤ۔ زمین کے علم میں تھا کہ اس مٹی سے آدم علیہ السلام کا پتلا تخلیق پائے گا اور آزمائش اور امتحان کی بھٹی سے گزرے گا۔ لہذا وہ پریشانی کا شکار تھی۔ مٹی نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی پاک ذات کا واسطہ دیا اور وہ مٹی لے جانے سے باز رہے اور بارگاہ خداوندی میں عرض کیا کہ یا اللہ میں حکم عدولی کا مرتکب نہیں ہوابلکہ مجھے تیرا واسطہ دینے کی وجہ سے حیا آ گئی تھی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت میکائیل علیہ السلام کو یہی حکم دیا۔ زمین ان کو دیکھ کر کانپنے لگی اور فریاد کرنے لگی کہ مجھے آزاد کر دو اور رونے دھونے لگی اور اللہ کی قسم دینے لگی۔ زمین کی آہ زارہ دیکھ کر وہ بھی بارگاہ خداوندی میں واپس چلے گئے اور عرض کیا کہ یا اللہ میں جانتا ہوں کہ تیری بارگاہ میں آنسوؤں کی کیا قدر و قیمت ہے لہذا میں زمین کے رونے کو نظر انداز نہ کر سکا۔ بارگاہ الٰہی میں اگر آنسوؤں کا نذرانہ پیش کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل کردہ مصیبت بھی ٹل جاتی ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام کی امت رات کے وقت اپنے مکانوں کی چھتوں پر محو خواب تھی کہ ایک ایسا بادل آیا جو پانی کی بجائے آگ برسا رہا تھا۔ وہ خوف سے کانپنے لگے،ان کے رنگ زردہ پڑ گئے، وہ مکانوں کی چھتوں سے نیچے اترے اور کھلے مقام پر جمع ہو کر بارگاہ خداوندی میں آنسو بہانے لگے اور فریاد کرنے لگے۔ وہ صبح سے شام تک اسی عمل میں مصروف رہے اور ان کے عمل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر سے عذاب ٹال دیا۔ بارگاہ خداوندی میں آنسوؤں کا نذرانہ پیش کرنے کا جو انعام میسر آتا ہے اس کو بیان کرنا نا ممکن ہے۔ حدیث مبارک ہے کہ اللہ تعالیٰ کو دو قطرے بے انتہا محبوب ہیں۔ ایک آنسو کا وہ قطرہ جو خوف خدا کی وجہ سے آنکھ سے بہہ نکلے اور دوسرا خون کا وہ قطرہ جو اللہ کی راہ میں بہایا جائے۔ اب حضرت عزرائیل علیہ السلام کو حکم ہوا کہ زمین سے مٹی کی ایک مٹھی لاؤ۔ زمین ایک مرتبہ پھر فریاد کرنے لگی ۔ لہذا حضرت عزرائیل علیہ السلام بھی خالی ہاتھ واپس پلٹ آئے اور دربار خداوندی میں عرض کی کہ یا اللہ آپ کا حکم سر آنکھوں پر لیکن آپ نے میرے دل میں جو رحم کا جذبہ ڈال رکھا ہے وہ مجھ پر غالب آ گیا تھا۔ اب اللہ تعالیٰ نے حضرت عزرائیل علیہ السلام کو مٹی لانے کا حکم دیا۔ زمین نے ان کو بھی مٹی لے جانے سے باز رکھنے کے لئے بہت جتن کئے لیکن حضرت عزرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ میں اللہ کا حکم ضرور پورا کروں گا میں تمہاری فریاد کی وجہ سے اللہ کے حکم سے رو گردانی نہیں کر سکتا۔ حضرت عزرائیل علیہ السلام نے مزید فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کا کارندہ ہوں اور اس کی حکم کی تعمیل کو اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ اگر وہ مجھے کسی پر رحم کرنے کا حکم کرے گا تو میں اس پر رحم کروں گا اور اگر وہ مجھے کسی پر قہر ڈھانے کا حکم کرے گا تو میں اس پر قہر ڈھاؤں گا۔ لہذا انہوںنے مٹی اٹھائی اور اللہ کے دربار میں لے گئے۔ حضرت عزرائیل علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے ملک الموت بنایا۔ آپ نے بارگاہ خداوند میں عرض کی کہ یا اللہ میں جن جانداروں کی روح قبض کروں گا وہ مجھے بُرا بھلا کہیں گے اور مجھ سے نفرت کریں گے۔ آپ نے یہ ڈیوٹی میرے لئے کیوں پسند فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں موت کے اسباب تخلیق کر دوں گا لوگ ان اسباب کو مورد الزام ٹھہرائیں گے اور تیری جانب کوئی توجہ ہی نہ دے گا۔ جیسے یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں حادثے میں مارا گیا، فلاں فلاں بیماری سے مر گیا ، فلاں چھت سے گر کر مر گیا، فلاں پیٹ درد سے مر گیا وغیرہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رانا مشہود نے تو کسی کو نہ بخشا ۔۔مریم نواز کو ہزاروں وولٹ کا جھٹکا دیدیا ۔۔ ایسی خبر آگئی کہ مسلم لیگ ن میں ہلچل مچ گئی

مریم نواز کے بیٹے جنید صفدر کی منگیتر کون نکلی؟یہ خاتون نواز شریف کے کس قریبی ساتھی کی صاحبزادی ہیں؟جان کر آپ بھی یقین نہیں کریں گے