in

وضو ٹوٹ جاتا ہے ۔۔۔

یمن کے شہر میں ایک مستانہ آوارہ پھرا کرتا تھا ۔ دنیا کی باتوں سے گم اپنی مگن دھنوں مگن وہ بازاروں میں عام پھرا کرتا تھا ،لو گ اس کے پیچھے آوازیں کستے اور چھیڑچھاڑکرتے رہتے تھے ۔ لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ کبی کسی کو کچھ نہیں کہتا تھا ۔
بچے تو کیا بڑے بھی اس کو پاگل کہتے تھے ۔ ایک دن وہ بازار سے گز ر رہا تھا کہ بچوں نے اس پر کنکریاں مارنی شروع کر دی وہ کنکریاں مار رہے تھے وہ آرام سے مگن جا رہا تھا ۔ اچانک ایک جگہ سے برا پتھر آیا اور اس کے سر سے ٹکرایا ۔

 

 

چہرے پر سے ایک خون کی لہر نمودار ہو ئی ۔ اس نے رک کر بچوں سے کہا کہ بچو کنکریاں مار کر اپنا شوق پورا کر لیا کرو او ر سا تھ میرا کام بھی ہو جاتا ہے ۔ لیکن یہ بڑے پتھر نہہ مار و ۔۔
ایک شریر لڑکے نے کہا کہ بس اتر گیا سارا نشا ۔ تو اس نے برے پیار سے جواب دیا کہ نہیں بیٹا جب پتھر برا ما رت ہو تو خون نکل آتا ہے اور میرا وضو ٹوٹ جاتا ہے ۔ پھر میں اپنے رب کے آگے سجدہ ریض نہیں ہو سکتا ۔
واہ کیا بات تھی اس مستانے کی یمن کے شہر قرن سے گزرنے والے اس مستانے عاشق کا بادشاہ خواجہ اویس قرنیؓ تھے ۔ کعبہ طواف کرنے والوں کا جب بھی ذکر ہو گا۔تو خواجہ اویس قرنیؓ کا نام سر فہرست ہو گا ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ایک گدھ اور شاہین ۔۔

ہم آپ کے لئے یہ کام لازمی کریں گے سعودی عرب نے پاکستان کو بڑی خوشخبری سنا دی