in

نور دین تم اب جو بھی کر لو ۔۔۔

میراثی نے اونچی آواز میں کہا کہ مولوی صا حب چوری کی بھینس آپ کے باڑے سے برامد ہوئی ہے ۔ مولوی صاحب اس وقت گاؤں کی پنچایت کا فیصلہ کر رہے تھے ۔ آہستہ آہستہ سب لوگ وہاں سے اٹھنا شروع ہو گئے ۔
مولوی صاحب کئی دیر تک میراثی کو دیکھتے رہے ۔ اور آخر میں سر پکر کر بیٹھ گئے ، یہ وہ ہی مو لووی حضرات ہو تے ہیں ۔ جولوگوں کو تعلیم کا درس دیتے ہیں ۔ اور لو گوں کا مسئلہ سنتے ہیں ۔ اور نماز کا درس دیتے ہیں۔ کو گوں کو تفرقات میں ڈالتے ہیں ۔ لیکن کچھ وقت انکے کام بھی نرالے ہوتے ہیں ۔ جو کسی کیبھی سمجھ سے باہر ہو تے ہیں

 

۔
لیکن جب سب لوگ پنچائت سے چلے گئے تو مولوی صاحب سر پکر کر بیٹھے ہوے تھے ۔ میراثی پھر سے آیا اور کہنے لگا کہ مجھے مو لوی صاحب معاف کر دیں ۔ وہ بھنس آپ کے ہمسائے نے چوری کی تھی ، لیکن آپ کے باڑے سے نکلی مولوی صاحب نے کہا کہ نور دین تم اب جو بھی کر لو گاؤں والوں کی نظروں میں چور بن گیا ۔ بعض اوقات انسان بغیر سوچے ایسے کام کر دیتا ہے جس سے لو گ فضول میں بدنام ہو جاتے ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

انوکھی دیگ۔۔۔

پرانے لو گوں کا خلوص ۔۔۔۔