in

9.ہر ایک چیز کی قیمت اس کی منڈی میں لگتی ہے۔

ایک استاد تھا ۔وہ اپنے شاگردوں کو اکثر کہتا تھا کہ یہ دین بہت قیمتی ہے ۔ایک دن اس کا ایک طالب علم اپنی جوتی کو سلوانے کے لیے مو چی کے پا س لے گیا ۔ بچے نے بدلے میں کہا کہ اس کے بدلے میں تمیں دین کا علم دو گا ۔ لیکن مو چی نے کہاکہ نہیں صرف پیسے لے گا ۔ اپنا دین اپنے پا س رکھو ۔ مجھے پیسے چاہیے ۔ وہ لڑکا بغیر جو تی سلوائے اپنے استاد کے پاس آ گیا ۔ اس نے آکر سارا ماجرہ اپنے استا د کو بتایا ۔ استا بھی آگے سیانے تھے ۔ اس نے اس کو ایک مو تی دیا اور کہا کہ ہر چیز کی قیمت اس کی منڈی میں لگتی ہے ۔ جاو اس کو سبزی منڈی لے جاو اور دیکھو کتنے پیسے ملتے ہیں ۔
وہ بچہ اس کو سبزی منڈی لے گیا اور ایک سبزی والے کا کہا کہ اس کے بدلے کیا دو گے اس نے کہا کی اس کے بدلے دو تین لمبو

 

لے لو ۔ وہ واپس آیا اور استا د کو بتایا ۔ استاد نے کہا کہ اب اس کو سنا ر کے پاس لے جاو ۔
وہ سنار کے پاس لے گیا اور اس نے کہا اس کے بدلے کیا دو گے ۔ اس نے بتایا کہ اگر میری پوری دکان بھی بک جائے تو میں اس موتی کی قیمت نہیں دے سکتا ۔ وہ واپس آیا اور استاد کو سارا واقعہ سنایا ۔ استاد نے پھر اس کو بتایا کہہر ایک چیز کی قیمت اس کی منڈی میں لگتی ہے۔جو ہمارا دین ہے اس کی قیمت بھی انشاء اللہ اللہ کی منڈی میں لگی گی ۔ ان کو کیا پتا جو جاہل ہیں اس لیے ان کی باتوں کی طرف توجہ نہ دو۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

شرابی کا جنازہ ْ ۔۔۔

انوکھی دیگ۔۔۔