in

پاکستان میں مجود ایسا علاقہ جہاں سے 50 سال تک 5000 میگا واٹ بجلی بنائی جا سکتی ہے

سندھ کے ضلع تھر پارکار میں 3ارب ڈالرز کا کول مائننگ اور پاور پروجیکٹ منصوبے کا پہلا مرحلہ تیزی سے تکمیل کے مراحل کی جانب گامزن ہے ۔ کول مائننگ کا 89 فیصد اور پاور پروڈکشن کا 90 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے ۔ رواں سال دسمبر میں بجلی نیشنل گرڈ کو فراہم کر دی جائے گی

جبکہ کمرشل سطح پر کام آئندہ سال جون میں شروع ہو گا ۔تھر بلاکii میں کوئلے کے ذخائر 50 سال تک 5 ہزار میگاواٹ بجلی فراہم کر سکتے ہیںجو ملک کو توانائی کے بحران سے نکالنے کیلئے کافی ہے،سید مرتضی اظہر رضوی پاکستان میں اس وقت پٹرولیم مصنوعات سے بجلی بنائی جا رہی ہے ، جو بہت مہنگی پڑتی ہےہم مقررہ وقت سے 5 ماہ قبل ہی منصوبے کا پہلا مرحلہ مکمل کر لیں گے ۔

کوئلے کی تلاش کے لیے اب تک 148 میٹر کی کھدائی کی جا چکی ہے ۔ جون 2018 میں پہلی مرتبہ کوئلہ نکلا تھا لیکن وہ بجلی بنانے کے قابل نہیں تھا ۔ اس لیے ہم مزید کھدائی کر رہے ہیں ۔ 160 میٹر پر اچھا کوئلہ نکلے گا ، جس کو پاور پروڈکشن کے لیے استعمال کیا جا سکے گا ۔ مجموعی طور پر ہم `190 میٹر تک کھدائی کریں گے ۔سندھ حکومت نے ابھی 100,100 کلو میٹر کے 13 بلاکس بنائے ہیں اور 6 بلاکس کو مختلف کمپنیوں کو الاٹ کیا ہے ۔

اس سے اندازاہ لگایا جا سکتا ہے کہ تھر میں توانائی کا کتنا بڑا ذخیرہ موجود ہے ۔ 150 ارب ٹن کوئلے سے 50 ارب ٹن تیل کے برابر توانائی بنائی جا سکتی ہے ۔ تھر میں سعودی عرب اور ایران کی تیل انرجی کے برابر کوئلے کی توانائی ہے ۔ اگر ہم وقت پر کوئلے سے پاور پروڈکشن کر رہے ہوتے تو آج پاکستان بجلی ایکسپورٹ کر رہا ہوتا ۔ ،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

دانت موتی جیسے سفید بنانے کا بڑا ہی آسان سا نسخہ ، بس اس پھل کے چند ٹکڑے کھالیں

مدارس کو دہشت گردی سے منسوب کرنا ناانصافی ہے،وزیر اعظم کا دنیا کو دو ٹوک پیغام